ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو میں تحفظ شریعت اور یکساں سول کوڈ کی مخالفت میں خواتین کا شاندار اجلاس

منگلورو میں تحفظ شریعت اور یکساں سول کوڈ کی مخالفت میں خواتین کا شاندار اجلاس

Tue, 20 Dec 2016 23:43:11    S.O. News Service

منگلورو 20/دسمبر (ایس او نیوز) جنوبی کینرا اور اڈپی ضلع کی سنٹرل مسلم کمیٹی نے دیگر اداروں اور تنظیموں کے اشتراک سے ٹاؤن ہال میں شریعت کی حفاظت اور یکساں سول کوڈ کی مخالفت میں خواتین کا ایک شاندار اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی صاحبہ فاطمہ نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء1937میں خواتین کی ہی کوششوں سے عمل میں آیا جس کے تحت شریعت کے مطابق نکاح، طلاق اور وراثت جیسے مسائل میں مسلمانوں پر لاگو کیا جاتاہے۔یہ اسلامی طرز زندگی سے متعلق قانون ہے۔ادھر کچھ عرصے سے یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کل آبادی کا صرف 20فیصد حصہ ٹھہرنے والے مسلمانو ں کے لئے جداگانہ قوانین کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ CRPCاورIPC جیسے قوانین کے ساتھ 66 فیصدملکی قوانین یہاں کی دوسری آبادیوں کی طرح مسلمانوں کے لئے بھی یکساں لاگو ہوتے ہیں۔اور مسلمان ان قوانین کا احترام بھی کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہندوؤں اور عیسائیوں کے اپنے پرسنل لا ہیں اسی طرح مسلمانوں کا بھی پرسنل لا ء ہے۔مگر مرکزی حکومت یہ حق ہم سے چھیننا چاہتی ہے۔ہمارا کہنا یہ ہے کہ مختلف النوع آبادی والے اس ملک میں ایک زبان اور ایک طرز کا قانون تھوپنا قابل قبول نہیں ہے۔

محترمہ فاطمہ نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کا مسودہ حکومت نے ابھی پیش نہیں کیا ہے۔انہوں حکومت کو متوجہ کراتے ہوئے کہا کہ  پہلے اسے شائع کیا جائے اور ملک گیر پیمانے پر اس مسودے پر بحث و گفتگو کا موقع دیا جائے۔کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ کچھ مسلم ممالک میں طلاق ثلاثہ کا رواج ختم کیا گیا ہے۔ لیکن جان لینا چاہیے کہ ایسے تانا شاہی اور آمریت والے مسلم ممالک ہمارے اس ملک کے مسلمانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ نہیں ہیں۔ ہمارے لیے رول ماڈل تو قرآن اور سنت ہے۔

سلفی گرلس اینڈ وومن موومنٹ کی نمائندہ ممتاز بنت شمس الدین نے کہا کہ طلاق دینے کے طریقے پر خود مسلمانوں نے صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا ہے اس لئے حکومت اس کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے، جبکہ صحیح اسلامی احکامات کے مطابق مرحلہ وار طلاق دینا خود عورت کے لئے ایک رحمت سے کم نہیں ہے۔گلو بل برٹش انسٹی ٹیوشن کی پرنسپال زہرہ عباس نے اس جلسے کی صدارت کی۔ تحفظ شریعت کمیٹی کی کنوینر ساجدہ مومن نے استقبالیہ خطاب کیا۔اور آسرے فاونڈیشن کی ممتاز پکّلڈکا نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔

خواتین کے اس پروگرام میں خواتین نے کنڑا میں تقریریں کیں، جبکہ ہزاروں کی تعداد میں خواتین اس پروگرام میں شریک رہیں۔


Share: